مایا تہذیب کے خاتمے کے بارے میں کئی نظریات پیش کئے گئے، لیکن ان نظریات کو ثابت کرنے کیلئے جو ثبوت پیش کئے گئے وہ غیر تسلی بخش ہیں۔مایا سلطنت موجودہ دور کے گوئٹے مالا میں واقع تھی۔ یہاں کے باشندوں کو زراعت، ظروف سازی، تحریر اور ریاضی میں کمال حاصل تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں یہ سلطنت عروج پر تھی لیکن 900 عیسوی میں اس کے کئی بڑے شہر ویران ہو چکے تھے۔کئی صدیوں تک تحقیق کار اس کھوج میں لگے رہے کہ آخر اتنی تیزی سے اتنی عظیم تہذیب کا خاتمہ کیسے ہوا؟ پر اب شاید اس گتھی کو بھی سلجھا لیا گیا ہے۔ایک جریدے ‘سائنس’ میں شائع ہونے والی نئی رپورٹ کے مطابق قابل تعین ثبوتوں سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ مایا تہذیب کا خاتمہ خشک سالی سے ہوا۔ اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے ماہرین نے جزیرہ نما یوکاتان کی جھیل چیچانکاناب کا تجزیہ کیا ہے۔ماہرین نے جھیل کی تہہ میں موجود تلچھٹ کے آکسیجن اور ہائیڈروجن آئسوٹوپ کا تجزیہ کیا۔ یہ جھیل مایا سلطنت کے وسط میں تھی، اس لیے یہاں سے آب و ہوا کا درست نمونہ ملا ہے۔ تجزیے سے پتا چلا کہ جس علاقے میں جھیل ہے، وہاں تقریباً چار سو سالوں تک سالانہ بارشوں میں 41 سے 54 فیصد کمی رہی ہے۔یہ بھی پتا چلا ہے کہ اس علاقے میں ہوا میں نمی کا تناسب 2 سے 7 فیصد تک گر گیا تھا۔ کم بارشوں اور ہوا میں کم ہوتے نمی کے تناسب نے مایا تہذیب کی زراعت کا تباہ کر دیا۔ چونکہ یہ سلسلہ کئی سو سالوں تک چلتا رہا ہے اس لیے مایا تہذیب کے ہنر مند بھی اپنے کے لیے خوراک کے ذخیروں کا بندوبست نہیں کر سکے۔ یہی چیز بتدریج ان کے خاتمے کا سبب بنی۔اس سے پہلے ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ جنگلات کی کٹائی سے موسم خشک ہوا، ہوا میں نمی کا تناسب کم ہوا اور زمین کی زرخیزی ختم ہوگئی، جس سے مایا سلطنت کا خاتمہ ہوا۔