سپریم کورٹ کی خصوصی بنچ میں پاناما عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم آج جاری کر دیا جائے گا۔
جسٹس اعجاز افضل نے پاناما فیصلے کی غلط تشریح پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی رہنما نےکہاپانچوں ججز نے وزیر اعظم کو جھوٹا کہا ہے، ایک سیاسی رہنما نے وہ کہا جو ہم نے نہیں کہا، میں نے وزیر اعظم کو جھوٹا نہیں کہا۔ ۜجسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اب وارننگ دے رہے ہیں کہ آئندہ ججز کو غلط طور پر منسوب کیا تو انہیں کٹہرے میں لائیں گے، ہم مقدمے کا آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔ سپریم کورٹ کے پاناما کیس فیصلے پر عمل درآمد اور ا سی سلسلے میں جے آئی ٹی کی تشکیل پر آج سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ نے سماعت کی۔
دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے صبرکا امتحان مت لیں، جے آئی ٹی آج ہی بنائیں گے۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایس ای سی پی عدالت میں پیش ہوئے، دونوں نے افسران کی فہرستیں عدالت کو پیش کردیں۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے بھیجے ہوئے ناموں کی تصدیق کروائی، ایسا لگا جیسے ہمارے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا ہو، ناموں کی سیاسی وابستگی سے متعلق منفی رپورٹ ملی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت میں آنے سے پہلے تمام محکموں نے میڈیا پر نام جاری کر دیے، اداروں کے سربراہان اس کے ذمہ دار ہیں، متنازعہ کمیشن کا فائدہ کسے ہوگا۔
جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ کون کیا کہتا ہے ہمیں کوئی سروکار نہیں، زمین پھٹے یا آسمان گرے، قانون کے مطابق چلیں گے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے قانون کے مطابق فیصلوں کا حلف اٹھایا ہے، بہت تحمل سے کام کر رہے ہیں، ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے، سوشل میڈیا اور میڈیا کو قابو کرنا آتا ہے۔