Important personnel, most of the officials on the safety of foreigners, are absent
ذرائع کے مطابق راولپنڈی سمیت پنجاب بھر کی پولیس کے حکام، ڈی آئی جی اسپیشل پروٹیکشن یونٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ داعش سے منسلک عناصر اہم سرکاری دفاتر، تنصیبات، توانائی کے منصوبوں، خفیہ اداروں کے سیف ہاؤسز، شاپنگ ایریاز اور جیلوں پر خودکش حملوں کا منصوبہ رکھتے ہیں جس کے پیش نظر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔
معلوم ہوا ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال پر منعقدہ اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں غیرملکیوں کی حفاظت کیلیے قائم اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کے ایک سینئر افسر نے واک تھرو گیٹس، کلوز سرکٹ ٹی وی کیمروں اور چند منصوبوں کے قریب اضافی میٹریل کی موجودگی کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کیا ہے جبکہ ڈی آئی جی اسپیشل پروٹیکشن یونٹ نے محکمہ داخلہ کے حکام کو بتایا ہے کہ توانائی کے منصوبوں پر تعینات ایس پی یو کی ساڑھے 6 ہزار نفری تعینات ہے جس میں 260 اہلکار غیرحاضر اور 650 چھٹیوں پر ہیں جبکہ حویلی بہادر شاہ جھنگ پروجیکٹ اور وہاں کام کرنے والے ایک ہزار غیرملکیوں کی حفاظت کیلیے ایس پی یو کے 293 اہلکار ایلیٹ فورس کے کمانڈوز کی دو ٹیموں کے ہمراہ تعینات ہیں۔
واضح رہے کہ ان منصوبوں اور وہاں پر کام کرنیوالے غیرملکیوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب نے ریجنل و ڈسٹرکٹ پولیس افسران اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کو ذاتی طور پر ان منصوبوں کا دورہ کرکے سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔
علاوہ ازیں معلوم ہوا ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم ڈپارٹمنٹ پنجاب نے قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے کہا ہے کہ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلیے تمام اہم منصوبوں، سرکاری تنصیبات اور جیلوں پر فرضی مشقیں کرائی جائیں۔