اسلام آباد(نیوز رپورٹر)جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پار ٹی کے سربراہ اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہاہے کہ قانون سازوں اوربیوروکریسی کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے پا کستان میں کرپشن عروج پر اور ملکی ترقی رک چکی ہے ، وہ آج اسلا م آباد میں اپنی رہا ئشگاہ پرصحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کر رہے تھے ۔
ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں انھوں نے کہا نے کہا کہ ابھی حکومت کے ابتدائی ایام ہیں اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسکی کارکردگی کا پتہ چلے گا۔ انھوں نے نواز شریف اور مریم نواز سے متعلق بتایا کہ وہ پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ ان پر کرپشن ثابت نھیں ہوئی ، جتنی جلدی ٹرائل مکمل کرنے میں کی گئی ضما نت کے معاملات بھی اتنی تیزی سے نمٹائے جا ئیں اور انصاف کا بول بالا رہنا چاہئے ۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حکومت کو عالمی سطح پرمسلہ ء کشمیر بھر پور انداز میں اٹھانا چاہئے۔ پی جے ڈی پی کے سربراہ نے کہا کہ گوادر اور سی پیک کی وجہ سے بلو چستان عالمی اہمیت اختیار کر چکا ہے جس کا پاکستان کو بھر پور فائدہ اٹھا چاہیئے لیکن یہ بہت افسوسنا ک ہے کہ ہم اس میں کامیاب نھیں ہوئے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بلو چستان میں حالات پر بہت حد تک قابو پایا جا چکاہے جس کا کریڈٹ فوج کو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد لاپتہ افراد کو باز یاب کروایا اور اسکے لئے میکنزم بنایا تھا۔ جسٹس چوہدری نے کہا کہ چیف جسٹس جو کچھ کر رہے ہیں وہ اختیارات سے تجاوز نھیں بلکہ انکے تحت کر رہے ہیں جنکی آئین اجازت دیتاہے۔ انھوں جسٹس ثاقب نثار کے ڈیم فنڈ کے حوالے سے کہا کہ یہ قومی مفاد میں اچھا کام ہے جسکی حمایت کی جانی چاہیئے۔ ملک میں انصاف کے حصول میں تاخیر کے سوال کے جواب میں جسٹس افتخار محمد چوھدری نے بتایا کی جلدانصاف کی فراہمی ماضی کی کسی بھی حکومت کی ترجیح نھیں رہی۔ انھوں کہا کہ اپنے دور میں میں نے جو ڈیشل پالیسی بنائی جسکا مقصد انصاف کی فوری فراہمی تھا مگر وسائل کے فقدان اور حکو متی دلچسپی نہ ہونے سے اس پر عمل نھیں ہو سکا۔ انھوں کہا کہ چیف جسٹس کے ساتھ عمران خان کی ملاقات سے نھیں بلکہ عدلیہ کو وسائل کی فراہمی سے عوام کو فوری انصاف مہیا ہو سکتاہے۔