اسلام آباد: پاکستان نے ہمسایہ ملک ایران سے تعلقات پر منفی اثرات سے بچنے کیلیے سعودی اتحاد میں قائم ہونے والے فوجی اتحاد میں شمولیت کے معاملے پر ’’ریڈلائنز‘‘ کھینچنے کا فیصلہ کیا ہے۔
Pakistan’s decision to draw ‘red lines’ in terms of inclusion in Saudi alliance
اس معاملے پر نظرثانی کا فیصلہ ریاض میں ہونے والی حالیہ عرب اسلامک امریکا سربراہ کانفرنس میں سعودی حکام کے بیانات کے بعد کیا گیا جن میں کہا گیا تھا کہ اتحاد کا مقصد دہشت گردی کیخلاف جنگ کے ساتھ ساتھ ایران کو کاؤنٹر کرنا بھی ہے، حکومت اصولی طور پر سعودی اتحاد کا حصہ بننے پر تیار ہے اگر اسکا واحد مقصد دہشت گردی اور شدت پسندی کیخلاف لڑنا ہو تاہم حکام کے مطابق حتمی فیصلہ اس وقت ہوگا جب اتحاد کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) تیار ہو جائیں گے، ٹی او آرز رکن ممالک کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں فائنل کیے جائیں گے۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان اپنی تجاویز وزرائے دفاع کے اجلاس میں پیش کرے گا جس کا انعقاد اگلے چند ہفتوں میں ہوگا، پاکستان تجویز پیش کرے گا کہ اتحاد کا واضح مقصد دہشتگردی کیخلاف جنگ ہونا چاہیے، اس سے انحراف کیا گیا تو نہ صرف امہ مزید تقسیم ہو جائے گی بلکہ فوجی اتحاد کو بھی نقصان ہوگا، ہمارا نکتہ نظر بہت واضح ہے کہ ہم صرف دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلیے اس اتحاد میں شامل ہوں گے۔ ادھر ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے بھی کہا کہ پاکستان نے بھی فوجی اتحاد میں شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، ابھی اس اتحاد کے ٹی او آرز کا فیصلہ ہونا باقی ہے، ہمیں قیاس آرائیوں میں الجھنے کے بجائے وزرائے دفاع کی میٹنگ کا انتطار کرنا چاہیے جس میں اس کی تمام جہتوں کا تعین کیا جائیگا۔