رپورٹ: سید معارف الحنسین: فیس بک انتظامیہ نے جب کمیونٹی سٹینڈرڈز کی وجہ سے کیمیائی ہتھیاروں سے متاثرہ سات سالہ یمنی بچی کی تصویر ہٹا دی تو ایک عوامی بھونچال آگیا ۔ جس نے فیس بک کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ ایک سات سالہ بچی کی تصویر تھی جوکہ گزشتہ چند روز پہلے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے ساتھ شائع ہوئی۔
جنگ سے بے حال یمن میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو مغربی میڈیا سمیت کہیں بھی مناسب کوریج نہیں دی جارہی۔ کیونکہ شام اور یمن میں روس اور امریکی ٹکرائو کو میڈیا میں سائیڈ لائن کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی جنگ کا سانحہ نامی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ جمعہ کے روز جاری کی گئی۔
ایک بچی امل حسین کی تصویر جو کہ بہت زیادہ کمزور ہے اسے صحافی کی طرف سے بڑھتے ہوئی اموات کو ظاہر کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ یمن کی چھوٹی عرب کمیونٹی اپنے سعودی ہمسائے کی وجہ سے بہت سے مصائب کا شکار ہے۔