اسلام آباد : جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ قبائلی عوام کی حالت کشمیری عوام سے بھی بد تر ہے، قبائلی عوام کو افغانستان کا باشندہ قرار دیا جاتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن قومی اسمبلی میں خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کر کے بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے اسی مقصد کے لیے مودی حکومت 70 سال کے بعد پاکستان کے بارے میں نئے رویوں پر مبنی پالیسی بنا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا میں نے آج سے پندرہ سال پہلے ہی کہا تھا کہ ہندوستان اپنا دفاعی اثر ورسوخ افغانستان تک بڑھا رہا ہے،آج وہی ہو رہا ہے اور بھارت ہمیں گھیر رہا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ یہ بتایا جاتا ہے کہ 10 لاکھ آئی ڈیپز ہیں، اڑھائی لاکھ افغانستان چلے گئے ہیں، چارلاکھ ابھی تک فاٹا سے نکلے ہی نہیں، یہ کون سے اعداد وشمار ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں پہلے ہی سرحدی مشکلات کا سامنا ہے قبائلیوں اور دیگر قومیتوں کے لیے مشکلات نہ بڑھائی جائیں قبائلی عوام کو آج بھی طالبان کی پرچیاں مل رہی ہیں اور اگر طالبان کی پرچیاں مل رہی ہیں تو بھر طالبان کے خاتمے کا دعوی کیسے کیا جا سکتا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ صوفی محمد آئین کو نہیں مانتا تو جیل میں ہے تو اس سے معاہدہ کس نے کیا تھا؟ صوفی محمد کے ساتھ ماورائے ایک آئینی معاہدہ کرنے والے تو سب آئین جانتے تھے، پھر انہوں نے کیسے دست خط کردیے یہ جانتے بوجھتے کہ یہ شخص آئین کو نہیں مانتا سچ یہ ہے کہ ہم سے بھی بہ حثیت مجموعی غلطیاں ہوئیں ہیں۔